چن ، امیرکہ کے بعد انڈیا ٹیلی وژن مارٹ سب سے بڈا اور تسرا ہے۔آ ج ہندوستان میں تقریناً 881 چینلس ہے،اس میں ۳۹۹ نیوز چینل اور ۴۸۲ غیر نیوز چینلس ہیں۔ مرکز کے کنڑول میں ۳۵ چینل ہیں۔نارتھ ایسٹک کے (North East)لیۓ ارون پربھا (arun prabha)،ڈی۔ڈی۔ما ۔ می۔نا(DD ma- mi- na) دو چینل مرکذ حکو مت شرو کر نے والی ہیں۔ نجی سیٹلاؑٹ چینل کچھ چل رہے ہی،کچھ شرو ہوے ، اور کچھ شرو ہوکے بند ہی نے شکل میں ہیں۔چینل چلانا اِتنا اسا ن نہیں رہا۔خرچ زیداہ اور آمدانی کم ہو گیؑ ہیں۔مواد (content)تیار کر نے سے لیکر لوگون کے گھر پہیچانے تک کیؑ طرح کے اخراجات کو برداشت کرنا پڈ تا ہے۔
اسے پہلے اڈیٹ idiot)باکس کہا گیا۔ اب وہ گھروں خاندان کا رکن بن گیا ہے۔ وہی آج دینا بھر میں مشہور ہیں۔اسکی طاقت یہ ہے کی لوگ براڈ کاسٹ صحافت کی وجہ تاریخ کو اپنی آنکھوں سے بنتے سیکھ رہے ہیں۔سیٹلاؑیٹ الیکڑانک نیوز گیدرنگ اور انڑنسیٹ سے براہراست نشریات کرنا ممکن ہوگیا ہے۔تحریری مواد کی نسبت آنکھوں سے دیکھ کر لوگوں کو حالات کا زیادہ سیح علم ہوتا ہے اور انہیں اس پر زیادہ اعتماد ہوتا ۔تاہم ٹیلی وژن کے یہی طاقت اس کے لیے کام کر نے ولوں پر بھاری ذمہ داری بھی عاؑد کر تی ہے۔ انڈیا میں اس کا شروات ۱۹۵۹ دلی میں ہوی۔ٹیلی وژں کے ذریعہ لوگونکو تعلیم، کسانوں کو آب پاشی ،زراعت کے نۓ تریقے ، صحت پر تعلیم فراہم کر نا حوکو مت کا مقسد تھا۔ اس کے بعدممبیؑ ،کلکتہ، مدراس شہرو میں برڈکا سٹ شرو ہوا۔ ۱۹۶۵ میں سے روز انہ پروگرام اور ۱۹۷۶ میں پہلی بار ایڈورٹازؑنگadvertising) تعارف ہوے۔ یہ برڈ کاسٹ مرکز حوکومت کے کنٹرول میں پروگرام بنے اور اس کا آمدانی ۱۷۰ 170 ملین روپے 1983-84 سے 2.1بلیں1989-90 تک پہنچ گیا۔ اسی دور میں راماین(ramayan)، مہا بھارت(mahabarat) سیریلس مقبوج ہوے۔ 1982 میں نیسنل براڈ کاسٹ کے سکل حاصل کر کے پہلی بار اِندا گاندی کا تقریر نشر ہوا۔ ۱۹۹۲ میں سبھا ش چندر ' جی ' نام سے ہندی نجی سیٹلاؑٹ satellite چینل ہانگ کانگhongkong سے اپلنک uplink کیا، ہندوستان سے اپلنکنگ کا اجازس نہیں تھی۔ اسکے بعد جنوبی ہندوستان میں جیمنی gemini اور ای etv ٹی وی نیٹ ورک اپنا نجی چینل شرو کرے۔
۱۹۹۸ میں انڈیا سے پہلا ۲۴گھنٹون کا نیوز چینل ّ جی اور اسٹار چینلوں سے شروع ہوا۔۲۰۰۱ کے بعد کئ چینل کو ہندوستان سے اپلینک کا اجازت مل گئ۔اس طرح چینلون کا سلسلا شرو ہو کے اب ۸۸۱ تک پہنچ گیا ہے۔
یہ ہی ایسا صنعت ہیں جس میں کنزیو مر سیدھا چینل کو سبکریپشن(subscription) رقم ادا نہین کرتے۔ چینل صرف مواد بنا کر تقسیم کار کو بیچتا ہے۔ یہ تقسیم کار"'یم یس وہ (M.S.O)"کے ذریعے مقا می کیبل آ پریٹر سے لوگون تک سگنل پہنچتا ہے۔ ٹیلی وژن چینل کے مالک کئ طرح کے خرچ کا بوجھ برداشت کرنا پڈتا ہے۔جیسے چینل لا ؑسنس license۰ فیس،چینل کیریؑر فیس،اپلنکنگ (uplinking)فیس،مقامی نماؑش فیس ادا کر نے کے بعد ہی اس چینل کو لوگ دیکھ سکتے ہیں۔ آ مدانے صرف ٹیلی وژن ایڈورٹاؑزنگ (advertising) سے ہی اتی ہیں۔ ایڈورٹاؑزنگ ٹیلی وژن ریٹنگ(rating) پوا ؑنٹس (points) بنیاد پر ہی ملتے ہیں۔ یہ پوا ؑنٹس کو پانے کے لیۓ چینل کو بارک BARC))رجسٹر رقم ادا کرنی پڈھتی ہیں۔ رٹینگ پواؑنٹس ا دھر پر ہی ایڈورٹا ؑزنگ(advertising) آ تے ہیں۔نیوز چینل آج دو طرح کے مسلے کا سامنا کر رھے ہے ۔ ایک، : چینل سے آمدانی کی امید کم ہو رہی ہے۔ جب ۲۰۱۲ میں بی بی سی (B.B.C) ورلڈ نے ینڈیا میں اپنے دو بی۔بی۔ سی اینٹرٹینمٹ،اور سی ۔بئ (c-bee) چینل کو کیریز(چینل تقسیم فیس) فیس زیداہ رہنے کے وجہ سے روکھ دیا گیا اور ایک چینل برقرار رکھا ۔ ہندوستاں میں صرف کچھ ہی شہرون میں ڈیزیٹلییزشں digitalisation) ) ہوا ہے اور کئ شہروں میں ڈیزیٹلییزشں تاخیر delay) کے وجہ سے کیبل اپریٹروں کامارکٹ کتنا ہے پتا چلنے کا اندیشا ہو گا۔اس کے ذیعہ حوکومت پالیسی تیار کرنا آسان ہوگا۔ ڈیزیٹلییزشں کےسیٹ اپ ڈبہ سے جہا ۵۰ چینل برڈکاسٹ کرتے تھے ۱ب ۵۰۰ ۱ور ۱۰۰ تک نجی کیبل اپریٹروں لوگوں کو فراہم کر سکتا ہے۔ انڈیا میں ڈی۔ٹی۔یچ جیشے(ٹاٹا اسکۓ ایرؑ ٹیل،Dish اvideocon,Reliance Digital Tv, Sun Direct doordarshan free Dish)اور یم۔یس ۔وہ، ذریعہ لوگوں تک ٹلی وژن سیگنل پہنچتا ہے۔ سر کار کیبل اپریٹروں اور چینل تقسیم کاوں پے قانون بنانے کی جد و جہد کر رہی ہیں۔ اس ڈیزیٹلییزشں عمل میں ۹۰۵ یم۔یس ۔وہ کی رجسٹری معلومات اور نشریات وزارت کے پاس ہوی انکو اجازت ملی ہے۔ مگر اب تک صرف چینل کنٹنٹ مانٹرینگ کرنے پے کچھ ہد تک کامیاب ہوٖی ہیں۔ کئ نیچے سے اْپر تک سبسکرپشن رقم پہنچ سکتا ہے۔
اب جو حال ہیں کی چینلونکو سبسکرپشن سے کم اور اشتہارون پے زیادہ توجہ دنا پڈھ رہا ہے۔ ،کنٹنٹ (content)کوالٹی(quality) کی ـضرورت اور مارکٹ میں بھاری مسابقت ۔ ایک ہی طرح کا کنٹنٹ سبھی سامعینوں کو پہچنا ۔پروگرا موں میں منفردکنٹنٹ نہیں رہنے کے وجہ سے لو گوں کو پسندیدا پرگرام نہیں ہو سکے۔اس وجہ سے ریٹنگ پواؑینٹس نا پا سک رہے ہے۔ِ بنا ریٹنگ پواؑینٹس کے چینل کو ایڈورٹا ؑزنگ کم ہو کر چینل برقرار رکھنے میں مشکل ہو رہی ہے۔

No comments:
Post a Comment